مہر خبررساں ایجنسی لبنان کے الاخبار کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ لبنان میں آج پارلیمانی انتخابات کے لئے ووٹنگ ہو رہی ہےاور امریکہ ، سعودی عرب اور مصر مشترکہ طور پر لبنان کے انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کررہے ہیں
انتخابات میں حزب اللہ اور اس کی اتحادی جماعتوں اور امریکی ۔ مصری اور سعودی حمایت یافتہ جماعتوں کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے ۔ایک جائزے کے مطابق انتخابات میں حزب اللہ کی کامیابی کی توقع ہے جبکہ بعض سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ لبنان میں مخلوط کابینہ کی تشکیل کا امکان ہے ۔ لبنان کے پارلیمانی نظام میں مذہبی قوتوں کی بنیاد پر نشستیں اور اہم حکومتی عہدے تقسیم کیے جاتے ہیں ۔ سالہا سال سے خانہ جنگی سے متاثرہ کثیرالمذہبی اس ملک میں طے شدہ کوٹہ سسٹم کے تحت پارلیمان میں مسلمانوں اور عیسائیوں کی نشستیں برابر ہیں۔ ملک کا صدر عیسائی ہوتا ہے، وزیرِاعظم سُنی جبکہ پارلیمنٹ کا اسپیکر شیعہ رُکنِ پارلیمان منتخب کیا جاتا ہے جبکہ کابینہ کی اہم وِزارتیں بھی ایک طے شدہ فارمولے کے تحت اہم فرقوں اور گروپوں کے نمائندوں کے درمیان تقسیم کی جاتی ہیں۔ ایک طرف سعودی، امریکی اور یورپی حلقوں میں تشویش ہے کہ کہیں حزب اللہ لبنان کی بڑی قوت ابھر کر سامنے نہ آ جائے۔ لبنان میں آج سات جون کے عام انتخابات میں خطے کی علاقائی اور عالمی طاقتوں کا بہت کچھ داؤ پر لگا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کا یہ چھوٹا سا جمہوری ملک لمبے عرصے سے خطے کی علاقائی طاقتوں کی زور آزمائی کا اکھاڑہ رہا ہے۔ اسی لیے لبنان کے انتخابی نتائج پر لبنانیوں کے ساتھ ساتھ بیرونی دنیا بھی نظریں جمائے ہوئے ہے۔ لبنانی حکومت نے امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ لبنانی انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کررہا ہے۔
آپ کا تبصرہ